29 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت کی جگہ کسی دوسری حکومت کا تصور ایک باطل اور شکست خوردہ تصور ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے شام کے وزير خارجہ ولید المعلم کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ  شام کی موجودہ حکومت کی جگہ کسی دوسری حکومت کا تصور ایک باطل اور شکست خوردہ تصور ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں جمہوری نظام موجود ہے اور جو خامیا ں موجود ہیں انھیں موجود حکومت دیانت کے ساتھ انجام دے رہی ہے اس کے باجود وہ ممالک جن میں ایک بار بھی انتخابات نہیں ہوئے وہ شام میں جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں صالحی نے کہا کہ شام کی موجودہ حکومت کے مخالف تمام ممالک در حقیقت اسرائيل کی حمایت اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ شام میں جاری تمام سآزشوں کا سرغنہ اسرائیل ہے اور بعض عرب ممالک اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ ایرانی وزير خارجہ نے کہا کہ شام کے صدر بشار اسد اپنے ملک میں دیانت اور نیک نیتی کے ساتھ اصلاحات انجام دے رہے ہیں لیکن شامی عوام کے مخالفین اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام کو لیبیا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔  انھوں نے کہا کہ شامی حکومت دہشت گردوں کے ساتھ صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کررہی ہے یہ دہشت گرد وہ لوگ ہیں جنھیں اسرائیل، سعودی عرب، امریکہ، ترکی اور قطر کی حمایت حاصل ہےاور مذکورہ ممالک دہشت گردوں کی آشکارا حمایت بھی کررہے ہیں۔

.......

/169